دبئی 17نومبر (آئی این ایس انڈیا) ایران میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک میں جاری احتجاج کے دوران پاسداران انقلاب کے زیرانتظام 'باسیج فورس' کے صدر دفتر کو آگ لگا دی۔
ایرانی مظاہرین کی طرف سے نہ صرف باسیج ملیشیا کے مرکز کو آگ لگا دی بلکہ اس کی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہے۔گذشتہ روز سیرجان میں ایک احتجاجی کی ہلاکت کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس کے ہاتھوں طاقت کے استعمال کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
چارافراد کی المحمرہ شہر میں ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ اھواز شہر میں پولیس کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کیے گئے حملوں میں 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔فارسی زبان کے آن لائن چینل 'در' کے مطابق ہفتے کے روز ملک بھرمیں 53 شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ ان میں سے کئی مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان براہ راست جھڑپیں ہوئیں۔جمعہ کو مظاہروں کا آغاز کم سے کم تین شہروں مشہد، اھواز اور سیرجان میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں سے ہوا تھا۔ پولیس کی کارروائی میں متعدد مظاہرین ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔فارس نیوز ایجنسی کی خبر کے مطابق تیل سے مالا مال صوبے اھواز اور جنوبی صوبے کرمان کے شہر سیرجان میں مظاہرے انتہائی شدید تھے۔